سرگذشت انذار کا مسئلہ

Published On March 4, 2025
علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

مشرف بیگ اشرف جس طرح مسلمانوں کی تاریخ میں، قانون کے لیے فقہ، اور قانون کي نظری بنیادوں اور مسلمانوں کے ہاں رائج لسانی نظریات کے لیے اصول فقہ میدان رہا ہے، اسی طرح علمیات، وجودیات، الہیات، قضیہ عقل ونقل اور نظریہ اخلاق کی بحث کے لیے علم کلام میدان رہا ہے۔ یہی وجہ ہے...

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف حالیہ ویڈیو میں غامدی صاحب نے نظریہ ارتقا پر بات کرتے ہوئے ایک بہت ہی صائب بات فرمائی کہ نظریہ ارتقا سائنس کا موضوع ہے اور اسے سائنس کا موضوع ہی رہنا چاہیے۔ دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ اپنے بچوں کو سائنس کی تحلیل سکھانی چاہیے۔ یہ بات بھی صائب ہے...

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب محترم جناب احمد جاوید صاحب نے تصوف سے متعلق حال ہی میں اس رائے کا اظہار فرمایا ہے کہ فقہ و کلام وغیرہ کی طرح یہ ایک انسانی کاوش و تعبیر ہے وغیرہ نیز اس کے نتیجے میں توحید و نبوت کے دینی تصورات پر ذد پڑی۔ ساتھ ہی آپ نے تصوف کی ضرورت کے بعض پہلووں پر...

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب مکتب فراہی کے منتسبین اہل تصوف پر نت نئے الزامات عائد کرنے میں جری واقع ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب و جناب غامدی صاحب سے گزرتا ہوا اب ان کے شاگردوں میں بھی حلول کررہا ہے۔ جس غیر ذمہ داری سے مولانا اصلاحی و غامدی صاحبان اہل تصوف...

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب   کچھ دن قبل اس موضوع پرفیسبک پر مختصر پوسٹ کی تھی کہ یہ فرق غیرمنطقی، غیر اصولی اور غیر ضروری ہے۔ جسے آپ شریعت کہتے ہیں وہ آپ کا فہم شریعت ہی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر غامدی صاحب نے اپنے تئیں شریعت کو فقہ کے انبار...

۔”خدا کو ماننا فطری ہے”  مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

۔”خدا کو ماننا فطری ہے” مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب علم کلام کو لتاڑنے والے حضرات کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وجود باری پر یقین رکھنا بدیہیات میں سے ہے، لہذا متکلمین دلائل دے کر بے مصرف و غیر قرآنی کام کرتے ہیں۔ یہاں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب "فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن مجید کی روشنی...

محمد حسنین اشرف

فراہی مکتبہ فکر اگر کچھ چیزوں کو قبول کرلے تو شاید جس چیز کو ہم مسئلہ کہہ رہے ہیں وہ مسئلہ نہیں ہوگا لیکن چونکہ کچھ چیزوں پر بارہا اصرار کیا جاتا ہے اس لیے اسے “مسئلہ” کہنا موزوں ہوگا۔ بہرکیف، پہلا مسئلہ جو اس باب میں پیش آتا ہے وہ قاری کی ریڈنگ کا مسئلہ ہے۔ اس سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ان کو درجہ بہ درجہ دیکھتے ہیں۔

۔۱۔ نظم کی یافت

جب ہم یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں متن کا نظم “دریافت” کرلیا ہے تو ہم متکلم کی جانب ایک اضافی شے منسوب کرتے ہیں جسے محض ہماری شرح نہیں ہونا چاہیے۔ مثلا فوکو نے آرڈر آف تھنگز کے دیباچہ میں انگریزی قاری کے لیے کچھ ہدایات درج کی ہیں کہ اُس کی کتاب کو کیسے اپروچ کیا جائے۔ فرض کیجیے یہ ہدایات نہ دی جاتیں اور کتاب کی ریڈنگ کے بعد کوئی شخص ایک دیباچہ یا مضمون لکھتا اور کہتا کہ اس نے یہ ہدایات متن کی ریڈنگ سے دریافت کی ہیں (یعنی یہ فوکو کی طرف سے ہیں) تو جو متشککانہ رویہ اس شخص کے ساتھ اپناتے وہی کسی بھی ایسے “دریافت شدہ” نظم کے ساتھ اگر کوئی اپنائے تو درست رویہ ہوگا۔ عین ممکن ہے کہ وہ ہدایات نہایت مفید ہوں لیکن ان کی نسبت نہ تو متکلم کی جانب کی جاسکتی ہے اور نہ متن کی جانب!۔

یاد رہے کہ یہاں متکلم کی جانب ایک اضافی شے منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ شے متکلم کی جانب سے
intended
تھی۔ دلچسپ مسئلہ یہ ہے کہ متن ہمیں متکلم کے ذہن تک رسائی دیتا ہے اور ایسی کوئی بھی دریافت متکلم کا ذہن پڑھنے جیسی شے ہوگی کیونکہ وہ نظم
explicit
نہیں ہے بلکہ
implicit
ہے جسے متن کو پڑھ کے دریافت کرنا پڑ رہا ہے بصورت دیگر اس کی نوبت ہی نہ آتی۔ یہاں متکلم خدا ہے سو ایسا کوئی بھی دعوی انسان کی سطح پر سے کیا بھی جاسکتا ہے؟ اگر نہیں تو یہ تمام تر کام قاری کی سطح پر ہو رہا ہے نہ کہ متن کی سطح پر (اسے قبول کرنا چاہیے)۔

اگر آپ اسے قبول کرتے ہیں تو پھر جس بھی ریڈنگ سے جو بھی نظم دریافت کیا جائے یا نہیں کیا جائے وہ قابل قبول ہوگا کیونکہ یہ سارا معاملہ متکلم کے بعد قاری کے ہاں ہو رہا ہے۔ پھر اصلاحی صاحب یہ کہنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ نظم کے بغیر متن کا جوہر تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر ایسا ہے تو متن کی قطیعت (جس معنی میں فراہی فکر قبول کرتی ہے) کا معاملہ کیا ہوگا؟

۔۲۔ نظم، موضوع اور سرگزشت انذار

فراہی فکر کا دریافت شدہ نظم دلچسپ صورتحال پیدا کرتا ہے۔ اس کو کچھ یوں دیکھیے:۔

قرآن کا موضوع: سرگزشت انذار
سورة کا موضوع: ہر سورة کا اپنا موضوع ہے جو سرگزشت انذار کے ذیل میں ہے یعنی سورة انذار، انذار عام اور ہجرت و برات سے متعلق ہوسکتی ہے۔
نظم: ان دو موضوعات کے تحت متن کو مرتب و منظوم دیکھا جائے گا۔

اب قاری نے “اپنے” دریافت کردہ نظم کا خود کو ہی پابند کرلیا ہے کہ وہ متن کی شرح اس کے پابند ہو کر کرے گا۔ یہ ایک جکڑن ہے جس کا پابند متن نہیں بلکہ قاری خود ہو رہا ہے (یہ بات قاری کو قبول کرنی چاہیے)۔ اچھا اب یہ نظم کیسے دریافت ہوا ہوگا۔ اس کے لیے آپ کو دو ریڈنگز درکار ہیں:

۔۱۔ ایک نظم دریافت کرنے کے لیے
۔۲۔ دوسری اس نظم کے تحت متن کو سمجھنے کے لیے

کیونکہ نظم کی دریافت کے بغیر (خود اصلاحی صاحب کے الفاظ جو میزان میں نقل ہیں) جو ریڈنگ ہوگی (یعنی پہلی ریڈنگ) آپ متن کی
essence
کو پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اس کے لیے محض یہ کہہ دینا کہ نظم “ہوتا” ہے کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کی دریافت کے لیے کافی مضبوط
conceptual work
کی ضرورت ہے جو بتا سکے کہ “خالص متن” کی ریڈنگ سے نظم کیسے دریافت کیا جاتا ہے؟

پھر یہ کہنا کہ پہلے میں نے متن پڑھ کے نظم دریافت کرلیا اور پھر نظم کے تحت متن کو پڑھ کے احکام معلوم کرلیے، یہ متن سے نہایت میکانکی نوعیت کا تعلق بھی پیدا کردیتا ہے۔ کیا ایسے ہی ہوتا ہے؟ بہرطور، اسے سمجھنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک
conceptual work
نہ کیا جائے۔ پھر یہ کہ نظم کے حق میں یہ بات ہرگز دلیل کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی کہ کوئی دوسرا “نظم” یا دوسری “شرح” لے آئے۔ ایسا ممکن اس لیے نہیں ہوتا کہ آپ کی شرح ایک خاص نظم کے تحت متعصب ہے۔ اب کوئی بھی دوسری شرح نہ تو قابل قبول ہوگی کیونکہ
rule of game
آپ طے کر رہے ہیں۔ سو اس کے لیے بہترین طریقہ اس شے پر کام ہے کہ نظم دریافت کیسے کیا گیا ہے؟

۔۳۔ کیا نظم خالص متن کی ریڈنگ کا نتیجہ ہے؟

فراہی مکتبہ فکر اور خصوصا غامدی صاحب، تاریخ کو بھی اہمیت دیتے ہیں اور انہوں نے مبادی تدبر قرآن میں اس کو خاص جگہ دی ہے۔ یہ مجھے متضاد معلوم ہوتی ہے اور اس سے متن کی مرکزیت پر تو سوال اُٹھتا ہی ہے لیکن اس سے “خالص متن” کی ریڈنگ والی پوزیشن بھی مشکوک ہوجاتی ہے۔ مثلا قرآن سرگزشت انذار ہے اس کے لیے متن سے پہلے ہمیں معلومات موجود ہیں تو کیسے یہ
ensure
کیا جاسکتا ہے کہ ہماری متن کی یہ ریڈنگ اس تاریخی معلومات سے اخذ کردہ نہیں ہیں بلکہ خالص متن کی ریڈنگ کا نتیجہ ہیں؟

۔۴۔ اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟

اس سے فرق یہ پڑتا ہے کہ آپ جو بھی نظم دریافت کرلیں گے وہ آپ کی شرح پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہوئے ہر آیت کو اس خاص اسٹرکچر میں رکھ دینے کے لیے مجبور کرے گا اور یہ مجبوری متن اور متکلم کی عائد کردہ نہیں ہوگی۔ اس سے متن کے معنی کی
fixity
پر اصرار بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ جس قدر قابل اعتبار آپ کا نظم ہے اسی قدر قابل اعتبار کوئی دوسرا نظم ہوگا۔ اسی طرح، تاریخ کو بھی قبول کرنا اور خالص متن کی ریڈنگ کو بھی باقی رکھنا متضاد ہے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…