مذہبی ریاست، سنتِ یورپ سے انحراف

Published On September 20, 2024
علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

مشرف بیگ اشرف جس طرح مسلمانوں کی تاریخ میں، قانون کے لیے فقہ، اور قانون کي نظری بنیادوں اور مسلمانوں کے ہاں رائج لسانی نظریات کے لیے اصول فقہ میدان رہا ہے، اسی طرح علمیات، وجودیات، الہیات، قضیہ عقل ونقل اور نظریہ اخلاق کی بحث کے لیے علم کلام میدان رہا ہے۔ یہی وجہ ہے...

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف حالیہ ویڈیو میں غامدی صاحب نے نظریہ ارتقا پر بات کرتے ہوئے ایک بہت ہی صائب بات فرمائی کہ نظریہ ارتقا سائنس کا موضوع ہے اور اسے سائنس کا موضوع ہی رہنا چاہیے۔ دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ اپنے بچوں کو سائنس کی تحلیل سکھانی چاہیے۔ یہ بات بھی صائب ہے...

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب محترم جناب احمد جاوید صاحب نے تصوف سے متعلق حال ہی میں اس رائے کا اظہار فرمایا ہے کہ فقہ و کلام وغیرہ کی طرح یہ ایک انسانی کاوش و تعبیر ہے وغیرہ نیز اس کے نتیجے میں توحید و نبوت کے دینی تصورات پر ذد پڑی۔ ساتھ ہی آپ نے تصوف کی ضرورت کے بعض پہلووں پر...

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب مکتب فراہی کے منتسبین اہل تصوف پر نت نئے الزامات عائد کرنے میں جری واقع ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب و جناب غامدی صاحب سے گزرتا ہوا اب ان کے شاگردوں میں بھی حلول کررہا ہے۔ جس غیر ذمہ داری سے مولانا اصلاحی و غامدی صاحبان اہل تصوف...

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب   کچھ دن قبل اس موضوع پرفیسبک پر مختصر پوسٹ کی تھی کہ یہ فرق غیرمنطقی، غیر اصولی اور غیر ضروری ہے۔ جسے آپ شریعت کہتے ہیں وہ آپ کا فہم شریعت ہی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر غامدی صاحب نے اپنے تئیں شریعت کو فقہ کے انبار...

۔”خدا کو ماننا فطری ہے”  مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

۔”خدا کو ماننا فطری ہے” مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب علم کلام کو لتاڑنے والے حضرات کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وجود باری پر یقین رکھنا بدیہیات میں سے ہے، لہذا متکلمین دلائل دے کر بے مصرف و غیر قرآنی کام کرتے ہیں۔ یہاں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب "فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن مجید کی روشنی...

ذیشان وڑائچ

سیکولرزم کے داعی طبقے کی طرف یہ سوالات مختلف انداز میں اٹھائے جاتے ہیں کہ مذہبی طبقہ واضح کرے کہ

  • آیا پاکستان ایک قومی ریاست ہے یا نہیں ؟
  • یا یہ کہ کیا اسلام کی رو سے قومی ریاست جائز ہے یا نہیں ؟
  • آیا قومی ریاست کا کوئی مذہب ہوتا ہے یا نہیں؟

دلیل ڈاٹ پی کے میں شائع شدہ بیس مارچ دوہزار سترہ کے  مفتی منیب الرحمن صاحب کے مضمون میں غامدی صاحب کے پوچھے گئے انہی سوالات کا ذکر موجود ہے۔

یہ دراصل سوالات سے زیادہ سوال پوچھنے والے کے عقیدے یا ذہنی کیفیت کی غمازی کرتے ہیں۔

ان سوالات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سوال پوچھنے والے نے یہ طئے کیا ہوا کہ قومی ریاست نام کا جو پیکیج مغرب سے ملا ہوا ہے اس کو جوں کا توں قبول کرنا ہے۔ سوال پوچھنے والے نے “پاکستانی قوم” کو بعینہ دوسری مغربی اقوام کے معنی میں سمجھا ہوا ہے یا اسے لگتا ہے کہ اجتماعیت کا جو تصور مغربی فکر سے ملا ہوا اس سے انحراف ایک بدعت ہے۔ سوال پوچھنے والا اس بات پر مصر ہے کہ تحریک پاکستان کی پوری تاریخ میں جس طرح “دو قوموں” کی وضاحت کی گئی تھی اس وضاحت سے اپنا اور پوری قوم کا رابطہ کاٹ دیا جائے۔

یہاں پر دراصل سوال کرنے والا یہ سوچتا ہے کہ ریاست وہ ابدی بدیہی حقیقت ہے جسے صرف دریافت کیا جاسکتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے پر ذہنی طور پر تیار نہیں ہے کہ پاکستانی ریاست “تشکیل دی گئی” ہے۔ جو چیز تشکیل دی گئی ہے وہ خود اپنے میں ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یورپ کی علمی فیکٹری میں بنائے ہوئے کسی سانچے میں اس کو ڈھال دیا جائے۔ ہمارا سانچہ خود ہماری روایات اور تاریخی تناظر میں تشکیل دیا گیا ہے۔ بھلے آپ کو یہاں پر دینِ يورپ کی سنت سے کتنا ہی انحراف لگے، اس بدعت کے تو ہم مرتکب ہوئے ہیں اور اسی پر قائم رہیں گے۔ تعجب ہے کہ اٹھارویں صدی کے یورپ کے اپنے مخصوص سیاسی ماحول میں ڈھلی ہوئی ایک اصطلاح ہمارے نابغوں کے لئے اتنی اہم ہوگئی کہ انہیں برصغیر کی مسلم شناخت کو منوانے کے اس عظِم ترین واقعے کو بھی اسی اصطلاح میں ڈھالنا اتنا اہم لگ رہا ہے! سیدھی سی بات ہے کہ جب ایک ریاست ہی اسلام کے نام پر بنی ہے تو لازمی طور پر اس ریاست کا ایک مذہب ہوگا اور وہ وہی مذہب ہوگا جس کے نام پر یہ بنی ہے۔

اب اگر کسی نابغے کے نزدیک جس اجتماعی اکائی کا کوئی مذہب ہوگا وہ “قومی ریاست” کی تعریف میں نہیں آتا تو اسے اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اسے قومی ریاست نہ مانے۔ پاکستان کو قومی ریاست منوانا کونسا ہماری ترجیحات میں ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد انجمن اقوام متحدہ کے ذریعے عالمی سیاسی نظام کی وجہ سے ہم پر جو شناختوں اور اصطلاحات کا جبر مسلط کیا گیا تھا یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ ہم قومی ریاست بھی کہلاتے ہیں اور مذہبی بھی کہلاتے ہیں۔ ان جابرانہ اصطلاحات کو استعمال کر کے ہم پر “وَعَزَّنِیۡ فِی الۡخِطَابِ” کا ہتھیار آزمایا نہ جائے۔ دراصل یہ سوالات پوچھ کر سوال کرنے والے اپنے آپ کو اقوام مغرب کے مبلغ اور فکری نمائندے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انگریزی میں اس قسم کی نمائندگی کرنے والے کے لئے سادہ سی اصطلاح ہے جسے “ایجنٹ” کہتے ہیں۔ واضح ہو کہ یہ ایجنٹی کسی حقارت کے لیے یا بدنیتی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ یہ بتانے کے لئے ہے کہ مرعوبیت کی وجہ سے علمی نمائندگی کی جو کیفیت طاری ہے اس کی تشریح کے لئے یہی لفظ مناسب ہے۔  

اگر قومی ریاست کا مذہبی ہونا منظور نہیں ہے تو پھر اقوام عالم کے علم گزیدوں سے پوچھ کر آئیں کہ ہمارے پاس “قومی ریاست” کے بجائے کسی اور نام کے ساتھ ایک اجتماعی اکائی کے طور پر رہنے کی کیا گنجائش ہے۔ چونکہ مذہبی شناخت کو مٹانے کی اب تک کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں، اس لئے سوچ کر کوئی بھلا سا نام رکھ دیں۔ ویسے خالص علمی سطح پر سعودی عرب، بھارت، جنوبی افریقہ بلکہ امریکہ جیسی ریاستوں کو بھی قومی ریاست کے آئیڈیا میں فٹ کرانا کافی مشکل کام ہے۔ جب پوری دنیا کے لئے ان ممالک کی شناخت غیر متعلقہ ہو کر رہ گئی ہے تو پھر آپ اپنی اصطلاحاتی دھونس لے کر ہم پر کیوں طبع آزمائی کر رہے ہیں؟

خلاصہ کلام یہ ہے، پاکستان کو “اسلامی” ماننے اور منوانے پر ہم مصر ہیں اور ہم اپنا یہ مؤقف تو چھوڑیں گے نہیں۔ پاکستان کو “قومی ریاست” کی تشریح میں فٹ کرانا آپ کےلیے اہم ہو تو ہو۔ اگر آپ کی مذکورہ شناخت (قومی ریاست) اور پاکستانی کی حقیقی شناخت (اسلامی) میں کوئی تناقض ہے تو پھر آپ قومی ریاست کے کانسپٹ میں ترمیم کردیں یا کوئی نئی اصطلاح لے آئیں۔ صرف آپ کے مسلط کردہ تشخص کو کرنے کے لئے ہم پاکستان کی اصل شناخت جو کہ اسلامی ہے کو کیوں ترک کریں؟

بشکریہ ایقاظ

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…